نئی دہلی ،31دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کے غازی پور میں پی ایم مودی کی ریلی کے بعد مشتعل ہجوم کی طرف تشدد میں پولیس کانسٹیبل سریش وتس کے قتل پر سابق وزیراعلیٰ اورایس پی سپریمو اکھلیش یادو نے یوگی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اکھلیش یادو نے غازی پور تشدد کیس پر افسوس ظاہر کیا اوراس کے لیے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو بالواسطہ طور پر ذمہ دار ٹھہرایا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ ایسے واقعات اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ وزیر اعلی کی ہمیشہ ایک ہی زبان ہوتی ہے ٹھوک دو۔بتا دیں کہ ہفتہ کو غازی پور میں پی ایم مودی کی ریلی کے بعد مظاہرین نے پتھراؤ کیا، جس میں ڈیوٹی سے واپس آ رہے سریش وتس کی موت ہو گئی۔غازی پور میں پتھراؤ اور اس وجہ سے سریش بچہ کی موت پر اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ واقعہ اس لیے پیش آیا کیونکہ وزیراعلی ایوان میں ہوں یا اسٹیج پر ہوں، ان کی ایک ہی زبان ہے۔’ ٹھوک دو‘۔کبھی پولس کو نہیں سمجھ آتا کہ کسے ٹھوکنا ہے، تو کبھی عوام کو نہیں سمجھ آتا کہ کسے ’ٹھوکنا‘ہے۔ بتا دیں کہ اتر پردیش کے غازی پورمیں پی ایم مودی کی ریلی کے بعد مشتعل ہجوم کے پتھراؤ میں پولیس کانسٹیبل سریش وتس کے قتل معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 11 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔دراصل کانسٹیبل سریش پی ایم مودی کی ریلی کے وقت ڈیوٹی پر تھے اور ریلی ختم ہونے کے بعد جب واپس آ رہے تھے، تبھی مظاہرین ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا، جس سے ان کی موت ہو گئی۔کانسٹیبل کی موت کے معاملے میں 32 لوگوں کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کی ہے۔وہیں، میت کانسٹیبل سریش وتس کے بیٹے وی پی سنگھ نے پولیس کی سیکورٹی کے نظام پر ہی سوال اٹھا دیے۔بتایا جا رہا ہے کہ پولیس کانسٹیبل کی موت نشاد پارٹی کے کارکنوں کی طرف سے پتھر بازی سے ہوئی ہے۔تاہم وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے مردہ سپاہی کے اہل خانہ کو 50 لاکھ روپے کی مالی مدد، ایک شخص کو نوکری اور غیر معمولی پنشن دیئے جانے کی ہدایات دیئے ہیں۔ وہیں کانگریس نے غازی پور میں بھیڑ کے پتھراؤ کے دوران پولیس کے ایک کانسٹیبل کی موت کو لے کر ہفتہ کو ریاستی حکومت پر حملہ بولا اور الزام لگایا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے’جنگل راج‘ میں نہ لوگ محفوظ ہیں اور نہ ہی پولیس۔واقعہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے اہم ترجمان سرجیوالا نے کہاکہ آدتیہ ناتھ کے ماہا جنگل راج میں نہ لوگ محفوظ ہیں اور نہ ہی پولیس۔